تاذہ ترین خبریں

جامعہ دارالعلوم دریاخان کے تمام شعبہ جات میں داخلے 10 شوال سے 15 شوال تک ہونگے۔ *** دارالعلوم ایجوکیشن سسٹم کے تحت ششم،ہفتم،ہشتم میں داخلہ جاری ہے باقاعدہ کلاسز انشاءاللہ 1 اگست سے شروع ہونگی۔

آن لائن ٹیچنگ

Quran Teaching Logo

آن لائن دارالافتاء

Dar ul Ifta Logo

 زیر سرپرستی:

حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا ارشاد احمد صاحب

مدیر دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا

سرپرست دارالعلوم دریا خان

 تعارف جامعہ دارالعلوم دریاخان ضلع بھکر

 زیر ادارت:

حضرت مولانا محمد راشد صاحب

مدیر جامعہ دارالعلوم دریا خان

و خولہؓ لبناتِ اسلام

 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلّی علی رسولہ الکریم

جامعہ دارالعلوم دریاخان، دینی درس گاہوں کے اس مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہے جو اس برّصغیر میں اللہ کے کچھ نیک بندوں نے انگریزی استعمار کی تاریک رات میں دین کی شمعیں روشن رکھنے کے لئے قائم کیا تھا دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃاﷲ علیہ اور حضرت مولانا رشید احمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء انگریز کے خلاف ۱۸۵۷؁ء کے جہاد میں بنفس نفیس شریک تھے۔ لیکن انگریز کے سیاسی اقتدار کے مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ اب محاذجنگ تبدیل ہوچکاہے، اب انگریز کی کوشش پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہ ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر زیر کرنے کے بعدفکری طور پر بھی اپنا غلام بنایا جائے۔ جس کے لئے وہ ایک ایسا نظام رائج کررہاہے جو مسلمانوں کے دل پر مغربی افکار کا سِکہّ جمائے اس کے ساتھ ساتھ انگریز کی کوشش یہ ہے کہ اسلامی علوم کو سینے سے لگانے والوں پر معاش کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں۔ اس لئے ان علماء کرام اور بزرگان دین نے رُوکھی سوکھی کھاکر، اور موٹاجھوٹا پہن کر دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، اور ایسے سر فروش علماء کرام کی ایک بڑی جماعت تیار کردی جو دنیا کی چمک دمک سے منہ موڑ کر کچے مکانوں اور تنگ حجروں میں دینی علوم کے چراغ کو وقت کی آندھیوں سے بچاتے رہے، تاکہ اس سیاسی مغلوبیت کے دور میں مسلمان اپنی معاشرت، اخلاق، عبادت اور باہمی معاملات میں اسلامی احکام و اقدار کو چھوڑکر غیروں کے طریقوںکی تقلید نہ کرنے لگیں، اور پھر جب کبھی مسلمانوں کو سیاسی اقتدار واپس ملے تو انہیں سرورِ کونین، محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کا لایاہوا دین اپنی صحیح شکل و صورت میں محفوظ مل جائے۔ اس طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا لگایا ہوا چمن جس پر خزاں نے ڈیرے جمالیے تھے، وہ دوبارہ سرسبز و شاداب ہونے لگا۔

دارالعلوم دیوبند سے علم و فضل، تبحر علمی، اتباعِ سنت اور زہد و تقویٰ کے جو آفتاب و ماہتاب نمودار ہوئے ان کے پاکیزہ کردار سے صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنہم کی حسین یادیں تازہ ہوگئیں، اور ان کی تعلیم و تبلیغ کے فیض سے برصغیر کا ہرگوشہ سیراب ہوا۔ ان کی علمی تحقیقات اور تربیت اخلاق سے شریعت و طریقت کی وہ گتھیاں حل ہوئیں جو مسلمانوں کے دورِ انحطاط میں عرصے سے سربستہ راز بنی ہوئی تھیں۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن صاحب قدس سرہ کی قیادت میں انہی علماء کرام کی مخلصانہ جدوجہدنے ہندوستان کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

حکیم الامت، مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء پر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قیامِ پاکستان کے لئے جو تاریخ ساز اور فیصلہ کن جدوجہد فرمائی وہ بھی اسی دارالعلوم دیوبند کا فیضان ہے۔

پاکستان بننے کے بعد جب حکومت مسلمانوں کو ملی، مناسب یہ تھا کہ سب سے پہلے ایک اسلامی حکومت کے شایان شان ایسا نظام تعلیم رائج کیا جاتاجس میں قرآن و سنت کی مکمل تعلیم کے ساتھ جدید علوم و فنون کو لادینی جراثیم سے پاک کرکے ان کی مکمل و معیاری تعلیم و تربیت ہوتی اور دینی و دنیوی تعلیم کی خلیج پاٹ دی جاتی، نہ یہاں دارالعلوم کی وہ حیثیت کافی تھی جو انگریز کے لادینی دور میں ہندوستان کے اندر مجبوراً رکھی گئی تھی اور نہ علی گڑھ کی محکومانہ تعلیم کی یہاں کوئی گنجائش تھی اور نہ ہی ندوہ کی وہ تعلیم کافی تھی جس میں اسلامی علوم میںسے صرف تاریخ و ادب کو اسلامیات کا محور بنالیا گیاتھا، ضرورت اس کی تھی کہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی مکمل معیاری تعلیم و تربیت پورے ملک میں عام کردی جاتی، مگرپاکستان اپنی ابتدا سے لے کر آج تک مختلف پارٹیوں اور گروہوں کی رسہ کشی کے جس طوفان سے گزرتا رہاہے وہ سب کے سامنے ہے، اس طویل عرصے میں یہاں کا نظام حکومت اور قانون بھی صحیح معنیٰ میں مسلمانوں کے دل کی آواز نہ بن سکا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک انگریز کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر یہاں کے اسکولوں، کالجوں کی تعلیم جاری ہے، جو علوم وفنون کے ماہرین پیداکرنے کے بجائے صرف دفتری ملازمین پیداکررہی ہے۔ اور وہ بھی نہایت ناقص انداز میں، اور دینی تعلیم و تربیت کا وہاں یا تو گزر نہیں، یاہے تو محض برائے نام۔

اس کے علاوہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ علم، بالخصوص علمِ دین کے ساتھ جب تک اتباع سنت اور عظمت اسلاف کی روح نہ ہو، اور جب تک اس کے مطابق وضع قطع سے لے کر مزاج و انداز تک ہرچیز کی تربیت کا اہتمام نہ ہو، اُس وقت تک وہ علم خواہ تحقیق و ریسرچ کے جس بام کمال تک پہنچ جائے، اسلام کے نزدیک اس کی کوئی وقعت نہیں۔
انگریزی نظام تعلیم نے ایک صدی سے زائد کے عرصہ میں دل و دماغ اس درجہ مسموم کر دئے ہیں کہ اگر بالفرض عام تعلیمی اداروں میں علوم اسلامیہ کی تعلیم کا انتظام ہو بھی جائے تو اتباع سنت، عظمت اسلاف اور ٹھیٹھ دینی تربیت کا وہ انداز جو اسلامی مدارس میں متوارث چلا آتاہے، اور ان مدارس کی حقیقی روح ہے اس کے ان جدید تعلیمی اداروں میں مکمل طور پر منتقل ہونے کے لئے بہت طویل اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہوگی جس میں کامیابی کے آثار مستقبل قریب میں نظر نہیں آتے اور جب تک عام تعلیمی ادارے اس ٹھیٹھ دینی مزاج و مذاق میں پوری طرح رنگ نہ جائیں، اس وقت تک ایک موہوم امید کے سہارے دینی تعلیم کو ملتوی نہیں کیاجاسکتا، اور جہاں ایسا کیا گیا ہے وہاں عوام کی دینی حالت کی ابتری کھلی آنکھوں سامنے ہے۔ اس لئے دین کی حفاظت کاجذبہ رکھنے والے علماء اور عوام نے پاکستان میں قدیم طرز کے اسلامی مدارس کا قیام اور ان کا جاری رہنا ضروری سمجھا

دارالعلوم دریاخان کا قیام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مادر علمی دارالعلوم کبیر والا میں دوران تعلیم ہی احباب کے دلوں میں یہ بات تھی کہ اپنے پسماندہ علاقہ میں علم کی ایسی شمع روشن کی جائے جس سے تمام علاقہ فیض یاب ہو چنانچہ تمام احباب نے کوشش کی اور مدرسہ کیلئے جگہ خرید لی گئی۔2006 میں دارالعلوم کبیروالا سے فراغت کے بعد 12 ستمبر بروز منگل سن 2006 اکابر علماء اور اساتزہ کرام نے مدرسے کی بنیاد رکھی اور الحمدللہ ان علماء کی برکت اور رہنمائی سے مدرسہ دن بدن ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔اللہ رب العزت دارالعلوم دریاخان کے فیض کو عام اور تام فرمائے۔۔

آمین ثم آمین

سوشل میڈیا

Pring icon   Twitter icon   Facebook icon 

آن لائن مہمان

Flag Counter

اسلامی ویب سائٹس

Islamic Websites

درس نظامی کتب

Dars e nizami books download

Live Chanel

Ustream Icon

شیڈیول لائیو بیانات و پروگرام

Live biyanat

 

Designed & Developed by TAKWIR Web Designing www.takwir.com